منگلورو : 31؍ مئی (ایس اؤ نیوز ) سمندری مچھلیوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے حالات پر قابوپانے کےلئے کرناٹک سمیت ملک بھر میں 61دنوں کے لئے ماہی گیری پر پابندی عائد کرتےہوئے مرکزی حکومت نے 31مئی کی رات سے جولائی 31تک ماہی گیری کو چھٹی دے دی ہے۔
مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق شہر کے بندرگاہ پر ماہی گیر اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اڈیشہ ، جھارکھنڈ، آندھراپردیش جیسے بیرونی ریاستوں کے ماہی گیر اپنے اپنے وطن پہنچ چکے ہیں مزید 80فی صد ماہی گیروں نے بوٹوں کو بندرگاہ پر لنگر انداز کردیا ہے۔
سال 2022-23کے فروری میں ماہی گیروں کو بہت بڑی تعداد میں مچھلیاں ملی تھیں۔ طوفان وغیرہ کاسامنا نہیں کرنا پڑا تھااور انہیں ڈیزل بھی مل رہا تھا، ایک ماہی گیر نے بتایا کہ صرف بوٹ مالکان کو ہی نہیں ہم لوگوں کی بھی اچھی کمائی ہوئی تھی۔
دکشن کنڑا ضلع میں 21ماہی گیر دیہات ہیں، قریب 55ہزار ماہی گیر رہائش پذیر ہیں۔ ضلع میں 845مشینی بوٹ(پرشین، ٹرالر)، 1109موٹر سے چلنے والی بوٹ اور 400روایتی بوٹ ہیں۔
ہر سال جون سے اگست تک مچھلیوں کی نسلی افزائش ہوتی ہے، اس دوران مشینی بوٹ کے ذریعے ماہی گیری پر حکومت نےقانون بنا کر پابندی عائد کی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ میعاد میں بارش کا موسم رہتاہے، کسی بھی خطرے کومول لینے سے بہتر ہے کہ ماہی گیروں کی حفاظت کی خاطر قانون بنایاگیا ہے۔
گذشتہ برسوں سے رواں سال کا موازنہ کریں تو امسال فروری میں مچھلیوں کا شکار کافی اچھا رہاہے۔ بیرونی ممالک کو بھیجی جانےوالی مچھلیوں کی قیمت میں کمی ہونے سے تھوڑا سانقصان ضرور ہواہے۔ بیرونی ممالک کو رفت کی جانےو الی پرشین بوٹ کی مچھلیوں کو بہتر قیمت ملی ہے۔ ٹرال بوٹ کے ماہی گیر ہفتہ بھر سمندر میں رک کر مچھلیوں کا شکارکرتےہیں اور ملی ہوئی مچھلیوں کوآئس باکس میں ذخیرہ کرتے ہیں۔ ایک ہفتہ بعد مچھلی کی تازگی نکل جاتی ہے اسی لئے اس کو بہتر قیمت نہیں ملنے کی ایک ماہی گیر نےجانکاری دی ۔
ماہی گیری کی چھٹیوں کے دوران روایتی کشتیوں کے ذریعے مچھلی شکار کیا جاتاہے۔ روایتی مچھلی شکار کے دوران عام طورپر بانگڑا مچھلی ملتی ہے تو بہتر نفع ہوتاہے۔ اسی طرح بارش کے موسم میں ندی کی مچھلی کےلئے کافی مانگ رہتی ہے۔ ندی میں ملنے والی مختلف نسل کی مچھلیوں کو خریدنےکےلئے گاہک امڈ پڑتے ہیں۔
منگلورو کی بندرگاہ میں ماہی گیر بوٹوں کو لنگر ڈالنے کےلئے جگہ کی قلت ہے۔ کشتیوں کو ایک دوسرے جوڑکر لنگر ڈالی جاتی ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرانےکی نتیجےمیں کئی مرتبہ نقصان بھی ہوتاہے۔ چند ماہی گیرکشتیوں کو کسبا بینگرے اور کدرولی میں لنگر ڈالنے پر ماہی گیر مجبور ہیں۔
ہمیشہ اپنے گنجان کروڑوں روپئے کے لین دین کے لئے مشہور منگلورو کے بندرگاہ پر ماہی گیر چھٹیوں کے دوران سناٹا پسرا ہوارہتاہے۔ دکانیں ، ہوٹل ، آئس پلانٹ سب بند رہتے ہیں۔ عوام کی چہل پہل نہ ہونے سے ہو کاعالم رہتاہے۔